
جنیوا : اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تصدیق کر دی.
تحقیقیاتی کمیشن نے نسل کشی کی تصدیق کیلیے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی شہادتیں، امداد کی روک تھام، جبری نقل مکانی اور طبی مراکز کو تباہ کرنے کے شواہد پیش کیے جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں اور دیگر کی بھی رائے لی جنہوں نے رپورٹ کی حمایت کی۔ کمیشن کی سربراہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج نوید پلے نے الجزیرہ کو انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ، وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ سمیت اعلیٰ قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کے بیانات کے ساتھ ساتھ، ایسے حالاتی شواہد تھے جن کی وجہ سے ان کے نسل کشی کے ارادے کا پتہ چلا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے لیے نسل کشی کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے انکوائری رپورٹ کو جعلی قرار دیا اور الزام لگایا کہ رپورٹ کے مصنفین حماس کی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔


































