
Activists of Islami Andolan Bangladesh, an Islamist political party take part in a protest outside the National Mosque in Dhaka on October 16, 2021, as protests began on October 13 after footage emerged of a Koran being placed on the knee of a figure of a Hindu god during celebrations for the Hindu festival of Durga Puja. (Photo by Munir uz zaman / AFP)
ڈھاکا: بنگلہ دیش میں مذہبی جھڑپوں کےدوران دو ہندو شہری ہلاک ہوگئے۔ بدھ کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے شروع ہونیوالی جھڑپوں میں اب تک چھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ تشدد کا واقعہ جنوبی علاقے بیگم گنج میں پیش آیا جب سینکڑوں مسلمانوں نے درگاہ پوجا کے آخری دن جلوس نکالا۔ اور دو سو سے زیادہ مظاہرین نے ایک مندر پرحملہ کردیا جہاں ہندو برادری کے افراد دس دن کے تہوار کے آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے مندر کمیٹی کے ایک ایگزیکٹو رکن کو مارا پیٹا اور چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا۔ ہفتے کی صبح مندر کے ساتھ ایک تالاب کے قریب ایک اور ہندو شخص کی لاش ملی۔ ہندو برادری کے ایک رہنما گوبند چندر پریمانک کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کم از کم 150 ہندو زخمی ہوئے ہیں اور کم از کم 80 عارضی مندروں پر حملہ ہوا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مزید بدامنی پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے سمیت اضافی سیکیورٹی تعینات کی ہے۔جمعے کو ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں تشدد پھوٹ پڑا جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔


































