
ماسکو : روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شمالی شام میں نئی فوجی مہم شروع کرنے کے ترکی کے اعلان کردہ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ سے تباہ حال عرب ملک میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ ناقابل قبول ہوگا۔ لاوروف نے یہ تبصرہ ماسکو میں دورہ پر آئے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے شام کے اندرونی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مذمت کی۔شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ روس اور شام اس عرب ملک میں نئی فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ کو روکنےکیلئے ترکی کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں۔روس شام اور ترکی کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کر رہا ہے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر جو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی تصدیق کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شمالی شام کی صورت حال کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ نئے فوجی اقدامات کو پھیلنے سے روکا جائے اور شام اور ترکی کے درمیان تعلقات میں موجودہ سیاسی اصولوں کی بنیاد پر سفارتی ذرائع سے بات چیت کی جائے۔


































