
کراچی: کراچی میں منگل کی صبح سے وقفے وقفے سے جاری موسلا دھار بارش نے شہر کو ڈبو دیا جس کے باعث شہر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور مختلف حادثات میں اب تک 11 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، شدید بارش کے باعث آج شہر میں عام تعطیل ہے۔
کراچی میں شارع فیصل، یونیورسٹی روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ سمیت شہر کی بڑی سڑکیں ڈوب گئیں، ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا، منزلوں کو جانے والے پھنس گئے، گاڑیاں اور بسیں ڈول گئیں، بے بس شہری، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو دھکے لگاتے لگاتے سڑکوں پر رل گئے۔ سرجانی ٹاؤن، گارڈن، شادمان ٹاؤن ،سخی حسن سمیت مختلف علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا، نارتھ کراچی ناگن چورنگی کی فوڈ سٹریٹ پر کئی دکانیں ڈوب گئیں۔
کراچی میں اب تک سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 170 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ اولڈ ایئرپورٹ پر 158 ملی میٹر بارش ہوئی، جناح ٹرمینل پر 153 ملی میٹر، ناظم آباد میں 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی اور ودیگر شریک ہوئے۔
کراچی میں موسلادھار بارش سے شہر کا انفراسٹرکچر متاثر ہونے لگا۔ منگل کی صبح سے وقفے وقفے سے جاری بارش کے باعث جہاں اہم شاہراہیں بند ہونے سے اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا اور شہری سڑکوں پر پھنس گئے وہیں دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال بحال نہیں ہوسکی۔
موسلادھار بارش کے بعد اب شہر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی، بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔
بارش کے بعد رات گزر گئی لیکن 14 گھنٹے بعد بھی کراچی کے ریڈ زون میں پانی موجود ہے۔ کراچی میں ایوان صدر اور ضیاء الدین احمد روڈ سے پانی نہ نکالا جا سکا، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ کا ایک ٹریک کل سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔
کراچی میں بارش کے بعد پانی کی نکاسی کے لیے انتظامیہ نے ایڈیشنل کمشنر کی سربراہی میں مانیٹرنگ ٹیم قائم کردی۔ ترجمان کمشنر کراچی کے مطابق شہریوں کی مدد اور رہنمائی کے لئے کمشنر آفس میں شکایتی مرکز قائم کیے گئے ہیں جہاں خصوصی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1299 کے نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسل کمشنرز فیلڈ میں رہیں گے۔


































