Wed Oct 21, 2026

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہو گیا، ایران ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار

روزانہ کی خبریں

داعش یا القاعدہ سے لڑائی کیلئے طالبان سے تعاون نہیں کریں گے، امریکا کا منافقانہ طرزعمل

واشنگٹن : امریکا نے خطے میں داعش یا القاعدہ سے لڑائی کیلئے طالبان کے ساتھ تعاون کا امکان مسترد کردیا۔ افغانستان کیلئے امریکا کےخصوصی نمائندے اور نائب معاون وزیرِ خارجہ تھامس ویسٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان عملی طور پر کوئی شراکت داری ہوگی۔ میرے خیال میں طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ان کی لڑائی اور کوشش ہے اور وہ دوحہ معاہدے میں بیان کردہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گرد امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسے طالبان کے ساتھ رابطے میں سہولت کے لیے پاکستان سمیت کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان امریکا کا اہم شراکت دار ہے۔ اور ہم مل کر کام کرتے رہیں گے، میں اور دوسرے امریکی عہدیدار طالبان کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں، مذاکرات براہ راست ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی تیسرے ملک کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا طالبان کا ایمن الظواہری کو پناہ دینا، دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ اس سلسلے میں ہم طالبان کے ساتھ عملی طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ہم جب بھی ہم طالبان کے ساتھ بات کرتے ہیں تو انسانی حقوق کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اندرون اور بیرونِ ملک طالبان کا موقف اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دس لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم کی اجازت نہیں دیتے۔

مزید پڑھیے

Most Popular