
واشنگٹن : امریکا نے خطے میں داعش یا القاعدہ سے لڑائی کیلئے طالبان کے ساتھ تعاون کا امکان مسترد کردیا۔ افغانستان کیلئے امریکا کےخصوصی نمائندے اور نائب معاون وزیرِ خارجہ تھامس ویسٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان عملی طور پر کوئی شراکت داری ہوگی۔ میرے خیال میں طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ان کی لڑائی اور کوشش ہے اور وہ دوحہ معاہدے میں بیان کردہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گرد امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسے طالبان کے ساتھ رابطے میں سہولت کے لیے پاکستان سمیت کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان امریکا کا اہم شراکت دار ہے۔ اور ہم مل کر کام کرتے رہیں گے، میں اور دوسرے امریکی عہدیدار طالبان کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں، مذاکرات براہ راست ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی تیسرے ملک کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا طالبان کا ایمن الظواہری کو پناہ دینا، دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ اس سلسلے میں ہم طالبان کے ساتھ عملی طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ہم جب بھی ہم طالبان کے ساتھ بات کرتے ہیں تو انسانی حقوق کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اندرون اور بیرونِ ملک طالبان کا موقف اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دس لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم کی اجازت نہیں دیتے۔


































