
تل ابیب : صیہونی حکومت نے بین الاقوامی تنقید کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جانے کے خواہشمند غیر ملکیوں یا دُہری شہریت کے حامل فلسطینیوں پر سخت قوانین نافذ کردئے۔ نیا حکمنامہ ان لاکھوں فلسطینی خاندانوں کیلئے پیچیدگیاں پیدا کرے گا جو دہری شہریت رکھتے ہیں اور پہلے ہی پیچیدہ اجازت نامے کے نظام کے سبب مشکل سے دوچار ہیں۔ سخت قوانین دوسال کیلئے نافذ کئے جائیں گے تاہم اس سے فلسطینی معیشت اور تعلیمی اداروں اور امدادی ایجنسیوں کے کام بری طرح متاثر ہوگا۔ انہیں مغربی کنارے میں رضاکارانہ طور پر تعلیم یا کام کرنے کے لیے آنے والے تمام غیر ملکیوں کو صرف تین ماہ کا سنگل انٹری ویزا دیا جائے گا۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ انہیں دوبارہ ویزا مل سکے۔ قوانین کے تحت فلسطینی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سالانہ صرف 150 غیر ملکی طلباء ہی رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ جبکہ غیرملکی لیکچررز کا کوٹہ بھی صرف 100 کردیا گیا ہے اور ان کا انتخاب نھی صیہونی حکومت خود کرے گی۔


































