
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہاہےکہ غاصب صیہونی رجیم کو ناقابل تلافی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ مظلوم بننے کی کوشش کررہاہے۔مسلح افواج کے کیڈٹس کی مشترکہ گریجویشن تقریب سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہاکہ سات اکتوبر کا معرکہ صیہونی ریاست کی ایک ناقابل تلافی اطلاعاتی اور فوجی ناکامی ہے۔ طوفان الاقصیٰ نے صیہونی حاکمیت کے ڈھانچے کو ایسا ویران کیا ہے کہ اسے دوبارہ کھڑا کرنا آسانی سے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معرکہ کے ہوشیار، مدبر اور جوان فلسطینی منصوبہ سازوں کی پیشانی اور ہاتھوں کو چومتے ہیں لیکن جو کہا جارہا ہے کہ یہ آخری معرکہ فلسطین سے باہر والوں کا کام ہے تو وہ غلط کیلکولیشن کا شکار ہیں۔ جب ظلم و بربریت حد سے بڑھ جائے، جب درندہ صفت اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو طوفان کا انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کا شجاعانہ اور فداکارانہ اقدام غاصب دشمن کے ظلم و بربریت جو سالوں سے جاری تھا اور گذشتہ چند سالوں میں شدید ہوگیا تھا، اسکا جواب تھا۔ آج جو اس خبیث دشمن نے طمانچہ کھایا ہے اب اس پر خود کو مظلوم ثابت کرنا چاہ رہا ہے، کیونکہ آج فلسطینی غزہ کے محاصرے کو توڑ کر باہر آچکے ہیں اور صیہونی عسکری و غیر عسکری مراکز تک رسائی حاصل کرچکے ہیں؛ تو اب اسرائیلی مظلوم ہوگئے؟ یہ ریاست صرف غاصب ہے مظلوم نہیں، ظالم ہے، تجاوز کرنے والی ہے، جاہل ہے، پاگل ہے لیکن مظلوم نہیں ہے۔ کوئی بھی اس درندہ صفت چہرہ کو مظلوم ثابت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظلومیت کا لبادہ مزید ظلم و ستم کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ غزہ پر حملہ، گھروں پر حملہ، عام شہریوں پر حملہ، قتل عام ان سب کے لئے بہانہ ہے کہ خود کو مظلوم ثابت کیا جائے تاکہ اس ظلم و ستم کو چند برابر انجام دیا جائے۔ لیکن یہ بھی غلط کیلکولیشن ہے۔ یہ جان لیں کہ ان کا یہ کام بھی انکے لئے اس سے بڑی تباہی اور مصیبت کا سبب بنے گا۔ فلسطینی جوانوں کا عزم اس ظلم و ستم سے مزید مستحکم ہوگا۔


































