
تل ابیب: صیہونی حکومت نے فلسطینی اسکولوں پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے بل متعارف کرادئے۔ اسرائیلی کنیسٹ نے دو بل متعارف کرائے ہیں جس کے تحت 1948 میں قبضہ کئےگئے علاقوں میں فلسطینی تعلیمی مراکز اور عملہ نام نہاد سیکورٹیز اور انٹیلی جنس کی کڑی نگرانی میں آجائیں گے۔ ان میں سے ایک بل کے تحت اسرائیلی وزارت تعلیم کو مجوزہ اساتذہ کے پس منظر کی سیکیورٹی چیک کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بل منظور ہوگیا تو حکومتی کمیٹی کو دہشت گرد تنظیم سے تعلق یا مسلح جدوجہد کی حمایت پر کسی بھی استاد کی تقرری منسوخ کرنے یا عملے کے کسی رکن کو برطرف کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ بل کے تحت اساتذہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے بل کے تحت تدریسی لائسنس کے حصول کو زیادہ مشکل بنایا گیا ہے۔ اسکولوں کا لائسنس اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا مذکورہ اسکول اسرائیلی تعیلمی نظام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔


































