Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

اسرائیل پر مزاحمت کی فتح نے امریکا کا مشرق وسطیٰ منصوبہ غرق کردیا، سید حسن نصر اللہ

بیروت : حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ 2006 میں اسرائیل پر مزاحمت کی فتح نے امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کو ملیا میٹ کردیا۔ صیہونی حکومت کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں مزاحمتی محاذ کی کامیابی کی17 ویں سالگرہ پر لبنانی عوام سے خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے کہاکہ یہ لڑائی ہر لحاظ سے ایک جنگ تھی اور لبنان اور خطے کی تاریخ کا ایک بہت اہم واقعہ تھا۔ اس جنگ نے پچھلے اور آنے والے سالوں میں لبنان اور خطے کی تقدیر کا تعین کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکہ کے ہتھیاروں میں سے ایک تھی جس کا ہدف علاقے کے ممالک سے غاصب اسرائیل کو تسلیم کروانا، فلسطینی اراضی، جولان اور لبنان کی مقبوضہ سرزمینوں کو نقصان پہنچانا اور اسرائیل کو امریکہ کے زیر اثر ایک علاقائی طاقت کے طور پر دکھانا تھا۔ انہوں نے کہا جنگ کا مقصد لبنانی مزاحمت کو مکمل طور سے تباہ کرنا اور لبنان کو اسرائیل اور امریکہ کی شرطیں منوانے پر رضامند کرنا تھا مگر یہ مقصد ناکام رہا اور مزاحمت کو کامیابی ملی۔ انہوں نے کہاکہ جس شخص نے سویڈن میں قرآن مجید کی بےحرمتی کی اس کا تعلق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا تھا۔ ہر حریت پسند اور باعزت شخص کو اس جرم کی تمام قانونی طریقوں سے مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی علماء کی طرف سے قرآن پاک کو جلانے کی مذمت نے فتنہ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular