
بیروت : حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ 2006 میں اسرائیل پر مزاحمت کی فتح نے امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کو ملیا میٹ کردیا۔ صیہونی حکومت کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں مزاحمتی محاذ کی کامیابی کی17 ویں سالگرہ پر لبنانی عوام سے خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے کہاکہ یہ لڑائی ہر لحاظ سے ایک جنگ تھی اور لبنان اور خطے کی تاریخ کا ایک بہت اہم واقعہ تھا۔ اس جنگ نے پچھلے اور آنے والے سالوں میں لبنان اور خطے کی تقدیر کا تعین کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکہ کے ہتھیاروں میں سے ایک تھی جس کا ہدف علاقے کے ممالک سے غاصب اسرائیل کو تسلیم کروانا، فلسطینی اراضی، جولان اور لبنان کی مقبوضہ سرزمینوں کو نقصان پہنچانا اور اسرائیل کو امریکہ کے زیر اثر ایک علاقائی طاقت کے طور پر دکھانا تھا۔ انہوں نے کہا جنگ کا مقصد لبنانی مزاحمت کو مکمل طور سے تباہ کرنا اور لبنان کو اسرائیل اور امریکہ کی شرطیں منوانے پر رضامند کرنا تھا مگر یہ مقصد ناکام رہا اور مزاحمت کو کامیابی ملی۔ انہوں نے کہاکہ جس شخص نے سویڈن میں قرآن مجید کی بےحرمتی کی اس کا تعلق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا تھا۔ ہر حریت پسند اور باعزت شخص کو اس جرم کی تمام قانونی طریقوں سے مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی علماء کی طرف سے قرآن پاک کو جلانے کی مذمت نے فتنہ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔


































