
Afghan warlord Gulbuddin Hekmatyar speaks to supporters in Jalalabad province, Afghanistan April 30, 2017. Picture taken April 30, 2017. REUTERS/Parwiz – RTS151O5
کابل: افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو گیا تو داعش کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،31 اگست کے بعد حکومت کے قیام کے لیے مشاورت ہو گی، کونسل بنائی گئی ہے وہ طالبان سے نئی حکومت کے قیام پر بات کرے گی، انہوں نے کہا کہ تھا ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کی حکومت چلے، ہمارا مشورہ ہے کہ افغان عوام مل کر نئی حکومت کے لیے اتفاق قائم کریں، اگر ہم مل کر حکومت بنائیں تو بھی امریکا اور اس کے اتحادی افغان حکومت کو قبول نہیں کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ افغان میں امن بھارت سمیت سب کے فائدے میں ہے، بھارت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی طرح ماضی کی غلطیاں مانے اور عدم مداخلت کا اعلان کرے، دہلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کو یقین دلائے کہ کابل کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی، سابق افغان وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے شرعی لباس جائز ہے، طالبان خواتین کو شرعی لباس میں دفاتر میں کام کرنے کی اجازت دیں، مغرب کو ہمارے ملک میں خواتین کے لباس پر ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے، چین افغانستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا لیکن امریکا نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔


































