
کابل: افغان طالبان نے لڑکیوں پر پابندی سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ جھوٹ کا پلندہ قرار دیکر مسترد کردی۔ طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس غیر حقیقی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔افغانستان میں کچھ مسائل ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف انفرادی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ لیکن وہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس طالبان کے لڑکیوں کو مارنے کے ثبوت ہیں تو پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ اندرونی معاملہ ہے جس میں بیرونی لوگوں کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ خاص طور پر ان کی تعلیم اور دیگر ملازمتوں کے سلسلے میں پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔


































