
Girls prepare for the university entrance exam, at the Daqiq Institute in Mazar-e-Sharif, Afghanistan, Oct. 8, 2021.Taliban officials insist that things will be different for girls and women from the last time the militants were in power, and that some form of education for them will be permitted, including graduate and postgraduate programs. (Kiana Hayeri/The New York Times)
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے نئی پابندی کے تحت یونیورسٹیوں سے خواتین کی لکھی ہوئی کتابوں کو ہٹادیا ہے۔ طالبان حکام نے 680 کتابوں پر پابندی لگائی ہےجن میں خواتین کی لکھی ایک سو چالیس کتابیں شامل ہیں۔
طالبان کا کہناہےکہ یہ کتابیں شرعی اصولوں کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔طالبان حکومت نےانسانی حقوق جیسے مضامین ممنوع قرار دے دئے ہیں۔ یونیورسٹیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 18 ایسے مضامین نہیں پڑھائیں گے جو طالبان کے مطابق شریعت اصولوں کے خلاف ہیں، جن میں خواتین کی ذمہ داری، مواصلات، سماجی علوم اور انسانی حقوق شامل ہیں۔ بعض کتابوں میں ایرانی مصنفین کے مضامین بھی شامل تھے۔ یہ حکمنامہ طالبان کی جانب سے گزشتہ چار سال میں عائد کردہ پابندیوں کے سلسلے میں ایک اور قدم ہے۔


































