
تہران : ولی امر المسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات میں دشمن کا کردار سب کے لیے، یہاں تک کہ بعض غیر جانبدار غیر ملکی مبصرین کے لیے بھی پوری طرح واضح اور عیاں ہے۔ یہ واقعات، داخلی سطح پر اپنے آپ وجود میں نہیں آئے ہیں بلکہ پروپیگنڈہ، سوچ کو متاثر کرنے، ہیجان پیدا کرنے، ورغلانے کی کوشش یہاں تک کہ پیٹرول بم بنانے کی ٹریننگ جیسے دشمن کے اقدامات اس وقت پوری طرح سے واضح ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ان واقعات کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ، دشمن کی پسپائی کی حالت اور مایوسانہ ردعمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے بہت کم عرصے میں، بڑے نمایاں کارنامے انجام دیے جو عالمی سامراج کی پالیسیوں کے بالکل برخلاف تھے تو وہ ردعمل دکھانے پر مجبور ہو گيا اور اسی تناظر میں اس نے سازش تیار کر کے اور پیسے خرچ کر کے امریکا، یورپ اور کچھ دیگر جگہوں کے بعض سیاستدانوں سمیت بہت سے افراد کو میدان میں اتار دیا۔انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم کے ان عظیم کارناموں نےدکھا دیا کہ ایرانی قوم جوش و جذبے سے بھری ہوئی، دیندار اور اقدار و مذہبی اصولوں کی پابند ہے اور ملک بھی بڑی تیزی سے آگے کی طرف گامزن ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے اربعین مارچ میں جوانوں کی دسیوں لاکھ کی تعداد میں شرکت اور کورونا کی وبا کے دوران انسان دوستانہ اقدامات کو ایرانی قوم کی دینداری، ایمان اور بڑے کارناموں کا نمونہ بتایا اور کہا: دراصل حالات کا کنٹرول ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے اور دشمن بچکانہ اور احمقانہ ردعمل دکھانے اور ہنگامہ آرائی کے لیے سازش تیار کرنے پر مجبور ہو گيا۔انھوں نے اغیار کی سازشوں کے مقابلے میں استقامت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ایرانی قوم، اسلام کے پرچم کو تھامے ہوئے ہے اور اسلامی نظام کے ساتھ ہے، تب تک یہ دشمنی، مختلف صورتوں میں جاری رہے گی اور اس کا واحد علاج، استقامت ہی ہے۔ شیطانوں کی سازشوں اور چالوں کے مقابلے میں ہماری استقامت، پیشرفت رک جانے کا باعث نہیں بلکہ یہ آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ جو لوگ سڑکوں پر آ رہے ہیں، ان سب کو ایک ہی زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، ان میں سے بعض یا تو دشمن کے عناصر ہیں اور اگر دشمن کے پٹھو نہیں ہیں تب بھی اسی کی راہ پر چل رہے ہیں جبکہ بعض لوگ ہیجانی کیفیت کا شکار ہو کر اور جوش میں سڑک پر آ جاتے ہیں، اس طرح کے لوگوں کے سلسلے میں ثقافتی کام ہونا چاہیے لیکن پہلی قسم کے لوگوں کے بارے میں عدلیہ اور سیکیورٹی کے ذمہ داروں کو اپنی ذمہ داری انجام دینی چاہیے۔


































