
تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ فسادات کے دوران یورپی ممالک اس غلط فہمی میں رہے کہ ان کی مرضی سے مظاہروں کا رخ موڑ سکتے ہیں لیکن ابھی احساس ہوا ہے ان کے تمام اندازے غلط تھے۔ ٹی وی پر عوام کے ٹیلی فونک سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر رئیسی نے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ تیل کی فروخت ناممکن ہے لیکن ہم نے فروخت کرکے دکھایا اور اس کی قیمت بھی وصول کرلی۔ حکومت کی نظر صرف چار ممالک پر مرکوز نہیں ہے بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مشرقی ممالک سے بھی رابطے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا اور ہم جوہری پروگرام کے حوالے سے عزت، حکمت اور مصلحت کے تحت مزاکرات کریں اور کسی سے رحم کی اپیل نہیں کریں گے۔ ہم عزت اور اقتدار کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔ روس، چین، انڈونیشیا سمیت مشرقی اور مغربی ممالک کے ساتھ روابط ہیں اور دنیا کے ساتھ باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے چنانچہ امریکہ یا صیہونی حکومت سمیت کوئی ملک ہم سے دشمنی مول لے تو کھل کر مقاومت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بعض مخصوص ممالک کے گرد نہیں گھومتی ہے بلکہ ملکی اقتصاد، سیاست اور اجتماعی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی بنائیں گے۔ دوسرے ملکوں سے تعلقات میں اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے۔ میرا ہر سفر ملکی مفادات اور اقتصادی فوائد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کئی عرصے سے اختلافات تھے لیکن ایران نے کبھی سعودی عرب کو اپنا دشمن نہیں سمجھا ہے۔ ہمیں اپنے اصلی اور حقیقی دشمن کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ صیہونی دشمنوں کو ہمیں نہیں بھولنا چاہئے۔انہوں نے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یورپی ممالک کے سامنے ہم نے اپنے مطالبات اور شرائط پیش کئے اور انہوں نے ان مطالبات کو معقول قرار دیا لیکن جب ایران میں فسادات شروع ہوئے تو یورپی ممالک نے غلط اندازہ لگایا اور تصور کیا کہ فسادات کی آڑ میں اپنی خواہشات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے اور آج ایران کو مسلسل پیغام بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے اقتدار اور استحکام کے بارے میں غلط اندازے لگائے تھے۔ اگر طرف مقابل منصفانہ طریقے سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں تو ہم بھی مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے وعدے توڑے ہیں اور معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے۔


































