
دمشق: شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ساری دنیا کی نمائندگی میں دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے جس کے سبب اُسے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے ایک عالمی کانفرنس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کے عالمی پروگرام کے باوجود، نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کی حمایت کی گئی اور نہ ہی دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو کسی طرح کی مدد فراہم کی گئی، بلکہ اس کے برخلاف پوری شامی قوم کو اقتصادی محاصرے میں لے لیا گیا۔ ان کے ملک کو داعش، نصرہ فرنٹ، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے انتہائی خطرناک دہشت گردی کا سامنا رہا اور اُسے اس کی خاطر لاکھوں بے گناہوں کی قربانی دینا پڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک آج اپنے قومی وسائل اور پروگراموں کو فعال کرنے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بھی راستہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ختم ہوگئی تھی۔ فیصل مقداد نے کہا کہ اب دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد شامی حکومت اپنے شہریوں اور خاص طور پر دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے۔


































