
تل ابیب: دو سال سے جاری غزہ جنگ کے باعث اسرائیل ذہنی صحت کے سونامی کی لپیٹ میں آگیا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو اس کا معاشرتی اثر طویل مدتی ہوگا۔
اسرائیلی اخبار یدیوت احرونوت کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے جاری جنگ کی وجہ سے بیس لاکھ افراد کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ نشے کی شرح میں اضافہ اور خاندان اور برادریاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے جاری تنازعہ اور صدمے نے عوام کو ڈپریشن، اضطراب، ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار کر دیا ہے۔ جبکہ نشے کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معالجین اور مددگار خدمات کی شدید کمی ہے، جس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے دماغی صحت کی آٹھ بڑی تنظیموں کے اتحاد نے حکومت کو فوری انتباہ جاری کیا۔ جس میں ملک کی صورتحال کو ذہنی بیماریوں کی وسعت اور دائرہ کار کے حوالے سے غیرمعمولی قرار دیا۔ اتحادی جماعت نےکہا کہ اسرائیلی معاشرے کی نفسیاتی حالت اور فلاح اس نچلے مقام پر ہےجو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق قلیل مدتی نفسیاتی علاج کے کیسز میں چار سو اکہتر فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوہزار بائیس میں یہ کیسز ساڑھے تین ہزار تھے جو دو ہزار چوبیس میں بیس ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔


































