
دمشق : شام کے صدر بشار اسد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ ہمیں ان کے نظریات کا بھی مقابلہ کرنا چاہیے۔دہشت گردی کے ساتھ اس کے افکار و نظریات سے بھی جنگ بہت ضروری ہے۔ جنوبی افریقہ کے نائب وزیر اطلاعات سے ملاقات میں بشار اسد نے کہا کہ دہشت گردی کے نظریات کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ اس لیے یہ دنیا میں بہت تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ دنیا میں مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ ہر روز پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سب یوکرین، شام، یمن، لیبیا اور دیگر خطوں کے معاشی نتائج کا نتیجہ ہے۔ یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر عدم استحکام اور بدامنی کا باعث بن رہا ہے۔شام کے صدر بشار اسد نے دہشت گردانہ نظریات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی جیسے مسائل کی حساسیت کے پیش نظر سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔


































