
تل ابیب : ترکی کے تجارتی تعلقات ختم کرنے سے اسرائیلی عوام پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اسرائیلی نیوز سائٹ نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ نیوز ویب سائٹ Calcalist کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ اسرائیل میں "مکمل سرپرائز” کے طور پر آیا۔ اسرائیل سمجھتا تھا کہ ترکیہ اشیا پر پابندی لگانے کی صرف دھمکیاں دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکیہ سے خام مال آنا بند ہوگیا ہے جس کااثر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا۔ جس سے عام صارفین متاثر ہوں گے جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوری طور پر اس کا متبادل بھی تلاش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ درآمد کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے وقت اور معاہدوں کے سیٹ کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہاں تک کہ جب ان پر دستخط کیے جاتے ہیں اشیا ترک مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکتیں۔


































