
تل ابیب: اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکتیں غیر معتبر اور نامکمل انٹیلی جنس کے نتیجے میں ہوئیں۔
عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کو فراہم کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں تھیں اور قیدیوں کے ٹھکانے اکثر بدل جاتے تھے۔ بعض اوقات فضائی حملے سے چند منٹ پہلے ہی ٹھکانہ بدل دیا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ناقص انٹیلی جنس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی قیدی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے، کیونکہ ان کے مقامات میں تبدیلی آ چکی تھی یا معلومات پرانی تھیں۔ ذرائع کے مطابق قابض فوج نے گزشتہ دو برسوں میں غزہ کے اندر متعدد خفیہ کارروائیاں کیں تاکہ قیدیوں کو بازیاب کرایا جا سکے، مگر قید کے مقامات کی مسلسل تبدیلی کے باعث یہ کوششیں بار بار ناکام رہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی مارچ میں شائع رپورٹ کے مطابق، سات اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران کم از کم 41 اسرائیلی قیدی اپنی ہی فوج کی بمباری اور فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔


































