
سرینگر: حریت رہنما سید علی گیلانی کو سپرد خاک کر دیا گیا، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیدعلی گیلانی کی تدفین صبح ساڑھے 4 بجے کی گئی، بھارتی فورسز نے سید علی گیلانی کی تدفین زبردستی حیدرپورہ میں ہی کر دی، حریت رہنما کی تدفین انتہائی سخت سیکیورٹی میں کی گئی، صرف چند قریبی رشتے داروں کو ہی جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی، علی گیلانی کے اہل خانہ حریت لیڈر کی تدفین مزار شہدا میں کرنا چاہتے تھے، مقبوضہ کشمیر کے بابائے حریت سید علی گیلانی گذشتہ روز90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، وہ 29 ستمبر 1929 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں پیدا ہوئے، تعلیم کے سلسلے میں لاہور آئے اور مولانا مودودی کے حلقہ احباب میں شامل رہے، لاہور میں سید علی گیلانی نے اردو اور فارسی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بطور رپورٹر کام بھی کیا،12 برس سے انہیں بھارتی فوج نے گھر میں نظر بند کر رکھا تھا، علی گیلانی کشمیر پر بھارتی قبضے کے بڑے مخالف اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے علم بردار تھے، سید علی گیلانی تعلیم مکمل کرنےکے بعد واپس سرینگر منتقل ہوئےاورسیاست میں قدم رکھا، پہلی بار 1962 میں کشمیر کا ایشو اٹھانے پر گرفتار ہوئے اور 13 ماہ قید رہے، 1965 میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور 22 ماہ جیل میں رہے، 70 اور 80 کی دہائی میں سید علی گیلانی 3 بار مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے رکن رہے، انہوں نے 1987میں سیاست چھوڑ کر حریت کا راستہ اپنایا، 1992 میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی تو سید علی گیلانی اس کا حصہ بن گئے، 2004 میں سید علی گیلانی اور اشرف صحرائی نے تحریک حریت کی بنیاد رکھی، بھارت سے آزادی تحریک حریت کے3 بنیادی مقاصد میں سے ایک تھی، حریت پسند سرگرمیوں کے باعث 12 سال سے زائد عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی، سید علی گیلانی اپنی سوانح حیات سمیت 30 کتابوں کے مصنف تھے۔


































