
جنیوا : اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے طالبان کا افغان خواتین کے ساتھ رویہ صنفی عدم مساوات کے مترادف قرار دیا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 53 ویں اجلاس میں افغان خواتین کی حالت زار پر نمایاں طور پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے طالبان حکومت پر منظم “صنفی ظلم و ستم” کے ارتکاب کا الزام بھی لگایا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے کونسل کو بتایا کہ طالبان کا طرز حکمرانی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف سنگین، منظم اور ادارہ جاتی امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ طالبان کا خواتین کے ساتھ رویہ صنفی عدم مساوات کے زمرے میں آتا ہے۔ کونسل کو دی گئی رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کی حالت زار دنیا میں بدترین ہے۔ رپورٹ میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ توجہ دیں اور افغان خواتین کو ریلیف پہنچانے کے لیے اقدامات کریں۔


































