
واشنگٹن: امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکام نے دو سال میں خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیوں کے چالیس سے زائد مذہبی احکامات جاری کئے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 سے اب تک طالبان نے افغانستان میں 80 مذہبی احکام اور فرمان جاری کیے ہیں۔ ان میں نصف سے زیادہ احکامات خواتین اور لڑکیوں پر براہ راست سخت پابندیاں نافذ کرنے سے متعلق ہیں۔ جس سے ان کی اپنی مذہبی تشریح کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ جس میں ثانوی و اعلیٰ تعلیم، ملازمت، مطالعاتی شعبوں اور نقل و حرکت کی آزادی پر پابندی بھی شامل ہے۔
2021 کے بعد طالبان نے ایسے احکام بھی نافذ کیے ہیں جو خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی کو سختی سے محدود کرتے ہیں جس میں پارکس۔ تفریحی مقامات اور بیوٹی سیلون تک رسائی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے 20 سے زائد تحریری اور زبانی حکمناموں کے ذریعے تعلیمی شعبے کو مکمل طور پر بہتر بنایا ہے۔


































