
BEIRUT, LEBANON – AUGUST 06: Naim Qassem second-in-command of Hezbollah attends commemoration ceremony of Fuad Shukr, Hezbollah’s top military commander who was assassinated by Israeli army in 30th of July, in Beirut, Lebanon on August 06, 2024. (Photo by Houssam Shbaro/Anadolu via Getty Images)
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قابضین لبنان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں ۔ ہتھیار ڈالنے کا مطلب لبنان کا وجود ختم ہونا ہوگا۔
شیخ نعیم قاسم نے خواتین کے یونٹ سے خطاب میں واضح کیا کہ مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات لبنانی نہیں بلکہ اسرائیلی اور امریکی ایجنڈا ہیں۔ مزاحمت کو اس کی طاقت سے محروم کرنےکی باتیں لبنان کی قوت کو ختم کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ستائیس نومبر دو ہزار چوبیس کوطے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شقوں کو کمزور کرنے والی کوئی بھی بات چیت بے معنی ہے۔ شیخ نعیم قاسم کے مطابق معاہدے کے بعد اسرائیل کے تمام اقدامات جارحیت کا تسلسل ہیں جو پورے لبنان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جارحیت کو روکنا لبنانی ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے جبکہ مزاحمت ریاست کی مدد اور آزادی کی کوششوں میں معاونت کرتی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ اگر لبنان پر جنگ مسلط کی گئی تو اسرائیلی رژیم اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی۔


































