
خرطوم: سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ خرطوم میں جمعے کو پورا دن دھماکے اور گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔ جنوبی حصے کے علاوہ آرمی ہیڈکوارٹر کے قریب سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے رہے۔ دریائے نیل کے کنارے قائم شہر ام درمان میں جنگی جہازوں اور ڈرونز کی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔ فوج اور نیم فوجی دستوں کے ایک دوسرے پر حملوں میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ شہر میں انٹرنیٹ سمیت رابطے کے دوسرے ذرائع منقطع ہوگئے۔ جھڑپوں کے دوران اب تک کم سے کم تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سوڈان میں ماورائے عدالت قتل، جنسی تشدد اور دیگر جرائم کی رپورٹوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ پراسیکیوٹر کریم خان نے بتایا کہ دارفور کے مغربی علاقے میں تشدد بڑھ رہا ہے اب ہم تاریخ کو دہرانے کی اجازت دینے کے خطرے سے دوچار ہیں۔


































