
غزہ: صمود فلوٹیلا کے قریب اچانک ڈرونز کی پروازوں سے کارکنوں اور جہازوں کی سلامتی کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے بریک دی سیج آن غزہ کے مطابق "اسطول الصمود العالمی” جس میں سینکڑوں کارکنان اور رضاکار شامل ہیں اور جو محاصرہ توڑنے والی جہازوں کی 38 ویں کاوش ہے، اجتماعی طور پر غزہ کی سمت روانہ ہو چکا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سمندری کارواں ہے۔
کمیٹی کے سربراہ البیراوی کے مطابق "44 جہاز اٹلی کی بندرگاہوں سے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ مزید 6 جہاز یونان کی بندرگاہوں سے ان میں شامل ہونے کی تیاری میں ہیں۔ اس قافلے کی براہِ راست منزل غزہ ہے۔” ان کے مطابق یہ سفر تقریباً ایک ہفتے میں غزہ کے ساحل تک پہنچے گا۔
"گلوبل الصمود فلوٹیلا” جمعہ کے روز صقلیہ کے ساحل سے روانہ ہوا، ایسے وقت میں جب غزہ دو سال سے قابض اسرائیل اور اس کے امریکی و مغربی اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کا شکار ہے جس کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 31 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے اس کارواں کے سب سے بڑے جہاز کو تیونس کے ساحل پر ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
موسمی رکاوٹوں کے باعث اس قافلے کی غزہ کے لیے روانگی کئی بار مؤخر کی گئی۔ "اسطول الصمود العالمی” تقریباً 50 جہازوں پر مشتمل ہے جن میں 23 جہاز مغرب عرب ممالک سے اور 22 غیر ملکی جہاز شامل ہیں۔ اس میں یورپی ممالک، لاطینی امریکہ، امریکہ، پاکستان، بھارت اور ملیشیا سے کارکنان بھی شریک ہیں۔
ڈرونز کی مشکوک پروازوں نے ایک بار پھر اس مشن کی سلامتی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
ادھر لیبیا کا اسپتال بردار جہاز غزہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تاکہ وہ امدادی قافلے صمود فلوٹیلا میں شامل ہو سکے۔ حکام کے مطابق یہ جہاز غزہ کے محصور عوام کو طبی امداد پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔


































