Tue Oct 13, 2026

سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس

روزانہ کی خبریں

صمود فلوٹیلا کے قریب ڈرونز کی پروازوں سے شدید خدشات

غزہ: صمود فلوٹیلا کے قریب اچانک ڈرونز کی پروازوں سے کارکنوں اور جہازوں کی سلامتی کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے بریک دی سیج آن غزہ کے مطابق "اسطول الصمود العالمی” جس میں سینکڑوں کارکنان اور رضاکار شامل ہیں اور جو محاصرہ توڑنے والی جہازوں کی 38 ویں کاوش ہے، اجتماعی طور پر غزہ کی سمت روانہ ہو چکا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سمندری کارواں ہے۔
کمیٹی کے سربراہ البیراوی کے مطابق "44 جہاز اٹلی کی بندرگاہوں سے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ مزید 6 جہاز یونان کی بندرگاہوں سے ان میں شامل ہونے کی تیاری میں ہیں۔ اس قافلے کی براہِ راست منزل غزہ ہے۔” ان کے مطابق یہ سفر تقریباً ایک ہفتے میں غزہ کے ساحل تک پہنچے گا۔
"گلوبل الصمود فلوٹیلا” جمعہ کے روز صقلیہ کے ساحل سے روانہ ہوا، ایسے وقت میں جب غزہ دو سال سے قابض اسرائیل اور اس کے امریکی و مغربی اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کا شکار ہے جس کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 31 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے اس کارواں کے سب سے بڑے جہاز کو تیونس کے ساحل پر ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
موسمی رکاوٹوں کے باعث اس قافلے کی غزہ کے لیے روانگی کئی بار مؤخر کی گئی۔ "اسطول الصمود العالمی” تقریباً 50 جہازوں پر مشتمل ہے جن میں 23 جہاز مغرب عرب ممالک سے اور 22 غیر ملکی جہاز شامل ہیں۔ اس میں یورپی ممالک، لاطینی امریکہ، امریکہ، پاکستان، بھارت اور ملیشیا سے کارکنان بھی شریک ہیں۔
ڈرونز کی مشکوک پروازوں نے ایک بار پھر اس مشن کی سلامتی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
ادھر لیبیا کا اسپتال بردار جہاز غزہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تاکہ وہ امدادی قافلے صمود فلوٹیلا میں شامل ہو سکے۔ حکام کے مطابق یہ جہاز غزہ کے محصور عوام کو طبی امداد پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular