
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مستقبل میں غزہ کے لیے جو بھی نیا حکومتی نظام قائم کیا جائے، اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری لازمی حاصل ہونی چاہیے۔
دوحہ میں ورلڈ سوشل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ کے لیے جو بھی نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، اسے لازمی طور پر سلامتی کونسل کا مینڈیٹ حاصل ہونا چاہیے تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر جائز حیثیت حاصل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک بین الاقوامی فورس کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فلسطینی پولیس فورس کو منظم تربیت دی جائے تاکہ وہ مقامی سطح پر ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ گوتریس نے کہا کہ غزہ کی کسی بھی عبوری انتظامیہ کا حتمی مقصد مغربی کنارے اور غزہ کی دوبارہ سیاسی وحدت اور فلسطینی اتھارٹی کے تحت انضمام ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے صرف فوجی حل کافی نہیں، بلکہ سیاسی افہام و تفہیم اور اقوام متحدہ کی نگرانی ناگزیر ہے۔ گوتریس نے کہا ہے کہ ادارہ غزہ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر اضافے اور اس کی فراہمی تمام شہریوں تک یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے.


































