
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بھارت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، قرار داد طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ قومی اسمبلی میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان سے بہتر کون جانتا ہے، بھارت کی آبی جارحیت انتہائی افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی آفر کی ہے، سینیٹ نے متفقہ قرارداد منظور کی ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت مختلف ملکوں میں دہشت گردی میں ملوث ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ کشمیری حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، پاکستان کا پانی روکا گیا تو یہ اعلان جنگ تصور ہوگا۔قراردا میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات مسترد کرتا ہے، ایوان پاکستان کے خلاف بھارتی اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کا اعلان نہیں کر سکتا۔قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان کا پہلگام حملے سے تعلق جوڑنے کی بھارتی کوشش کو مسترد کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر غیر قانونی اور بھارت کا اقدام جنگی عمل کے مترادف ہے۔ اس میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو فروری 2019ء جیسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔


































