
غزہ: صیہونی حکومت کے الٹی میٹم کے بعد شمالی غزہ سے نقل مکانی میں تیزی آگئی۔ جبکہ صیہونی فوج تباہ حال فلسطینیوں کے قافلوں کو بھی نشانہ بنارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مختصر نوٹس پر بڑے پیمانے پر انخلاء کے تباہ کن انسانی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ صیہونی حکومت کے الٹی میٹم کے بعد شمالی غزہ سے جنوب کی جانب ہزاروں افراد قافلوں کی شکل میں منتقل ہورہے ہیں۔ راستوں پر گاڑیوں ۔ ٹرکوں کی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ انخلاء کا حکم خطرناک اور تشویشناک ہے۔ مختصر نوٹس پر بڑے پیمانے پر انخلاء کے تباہ کن انسانی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی مطالبے کو مسترد اور نہتے شہریوں پر مسلسل حملوں کی مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شہریوں کے خلاف ہر طرح کے فوجی تشدد کو بند کرانے کے لیے فوری اقدام کرے۔ سعودی دفتر خارجہ نے کہاکہ غزہ کے باشندوں کو پروقار زندگی کے بنیادی تقاضوں سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ شمالی غزہ کے لوگوں کےلیے اسرائیل کے انخلا کے حکم پر عمل درآمد کرنا قطعاً ناممکن ہے۔ اس سے محض ایک انسانی بحران ہو سکتا ہے۔
ادھر صیہونی جنگ طیاروں نے گذشتہ رات شمالی غزہ سے نقل مکانی کرنیوالے تین قافلوں پر بمباری کردی جس کے نتیجے میں ستر افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 250 شہادتوں سے تعداد دوہزار تک جاپہنچی۔ فلسطینی وزارت صحت نے 614 بچوں اور 370 خواتین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کی تعداد بھی 8 ہزار کو چھو گئی۔زخمیوں میں 2000 بچے اور 1400خواتین شامل ہیں۔


































