
پاراچنار: پاراچنار ایک بار پھر چاروں طرف سے تکفیری دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آگیا۔ تین دن میں شہدا کی تعداد 11 ہوگئی جبکہ 17 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع کرم کی لوئر تحصیل میں ٹل پارہ چنار مرکزی شاہراہ پر پولیس کے حصارمیں پارہ چنار جانے والی موٹر گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں کی اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں 2 سگے بھائی سمیت 4 مومنین شہید اور 6 دیگر زخمی ہوگئے۔ مسلح افراد نے ضلعی ہیڈ کوارٹر پارہ چنار جانے والی کئی موٹر گاڑیوں پر مبنی قافلے پر اس وقت گولیاں برسائیں جب قافلہ مبینہ طور پر پولیس سکواڈ کے حصار میں لوئر کرم کے علاقہ چار خیل بگن میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔
قبل ازیں بوشہرہ میں بھی امام بارگاہ کے تعمیری کام کے دوران دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس سے 18 سالہ نوجوان شہید اور 2 افراد زخمی ہوئے۔ کل بوشہرہ کے بعد صدہ کے مقام پر بھی جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ لڑائی رک گئی ہے لیکن دونوں جانب سے افراد مورچہ زن ہیں۔ اگر جھڑپیں جاری رہیں تو اس کے اثرات پورے پاراچنار میں پھیل جائیں گے۔ تکفیروں نے اپنےعلاقوں سے اہل تشیع کی گاڑیوں کے گذرنے پر پابندی لگادی ہے۔ کچھ شر پسندوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر آپ کی گاڑی کو آتے دیکھا گیا بندوں سمیت جلا دیا جائے گا۔
بڑی گاڑیوں کی آمدو رفت بالکل بند ہے۔ جس سے غذائی اشیاء کی قلت کا اندیشہ ہے۔ اب تک جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں بوشہرہ کی طرف سے ڈنڈر گاؤں پرحملے میں 4 مومنین شہید اور 8 زخمی ہوئے۔ پشاور سے پاراچنار سرکاری ملیشا کی نگرانی میں آنے والے قافلے پر چارخیل کے مقام پر حملہ ہوا۔ جس میں 2 مومنین شہید جبکہ 7 زخمی ہوئے۔ شلوزان تنگی میں ریت بھرتے مزدوروں پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک مزدور شہید اور دوسرا زخمی ہوا تھا۔


































