
This handout picture released by the Palestinian Authority’s press office (PPO) shows President Mahmud Abbas (R) meeting with Britain’s former prime minister Tony Blair in Amman on July 13, 2025. (Photo by Thaer GHANAIM / PPO / AFP) / RESTRICTED TO EDITORIAL USE – MANDATORY CREDIT "AFP PHOTO / PPO / HANDOUT” – NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS – DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS
عمان : حماس کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو غزہ منصوبے کے لیے قبول کرلیا۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ سے عمان میں ملاقات کی، جس میں جنگ کے بعد کے حالات، جنگ بندی کے قیام، قیدیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔ حسین الشیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صدر ٹرمپ، ٹونی بلیئر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن، جنگ بندی، اور تعمیرِ نو کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوششوں کو روکنا، روکی گئی فلسطینی ٹیکس آمدن واپس دلوانا اور دو ریاستی حل کو نقصان سے بچانا ناگزیر ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک جامع اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔
ادھر حماس نے ٹونی بلیئر کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی بورڈ کو فلسطین پر سرپرستی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔


































