Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

حماس کی مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے ٹونی بلیئر کو قبول کرلیا

This handout picture released by the Palestinian Authority’s press office (PPO) shows President Mahmud Abbas (R) meeting with Britain’s former prime minister Tony Blair in Amman on July 13, 2025. (Photo by Thaer GHANAIM / PPO / AFP) / RESTRICTED TO EDITORIAL USE – MANDATORY CREDIT "AFP PHOTO / PPO / HANDOUT” – NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS – DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS

عمان : حماس کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو غزہ منصوبے کے لیے قبول کرلیا۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ سے عمان میں ملاقات کی، جس میں جنگ کے بعد کے حالات، جنگ بندی کے قیام، قیدیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔ حسین الشیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صدر ٹرمپ، ٹونی بلیئر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن، جنگ بندی، اور تعمیرِ نو کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوششوں کو روکنا، روکی گئی فلسطینی ٹیکس آمدن واپس دلوانا اور دو ریاستی حل کو نقصان سے بچانا ناگزیر ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک جامع اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔
ادھر حماس نے ٹونی بلیئر کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی بورڈ کو فلسطین پر سرپرستی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید پڑھیے

Most Popular