
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامزد کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی گمراہ کن اور اخلاقی طور پر کھوکھلا فیصلہ قرار دیا ہے. علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک بیان میں کہا کہ فیصلے میں غزہ میں نسل کشی کی پالیسیوں اور ایران پر اسرائیلی حملے کی حمایت کے ٹرمپ کے مکروہ ریکارڈ کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نامزدگی امن اور انصاف کے ان اصولوں کو مجروح کرتی ہے جو ایوارڈ دینے کیلئے اپنائے جاتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ نوبل امن انعام نے طویل عرصے سے اپنی عزت اور اپنے جغرافیائی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مغربی ٹول کے طور پر کام کیا ہے۔ علامہ راجہ ناصر کے بیان میں ویتنام جنگ کے بعد ہنری کسنجر۔ اوسلو معاہدے کے عیوض یاسر عرفات، شمعون پیریز، اور یتزاک رابن۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد براک اوباما اور روہنگیا نسل کشی کے دوران آنگ سان سوچی کو یہ ایوارڈ دینے کی مثالیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ نوبل انعام بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والوں کو انعام دینے کے وژن سے بالکل متصادم ہیں۔


































