
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہےکہ نام نہاد انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کیلئے فوج غزہ بھیجنے کا مبینہ منصوبہ تشویشناک ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فورس امن یا انصاف کے قیام کے لیے نہیں بلکہ دراصل امریکہ کی قیادت میں بننے والا ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اس میں شمولیت پاکستان کو ایک قبضہ سہولت کار کے طور پر پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تشویش کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام نے کسی غیر ملکی فورس کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی۔ بغیر مقامی منظوری کے کسی بھی فوجی فورس کی تعیناتی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے امن مشن کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ غزہ کے عوام ایسی فورس کو امن لانے والی نہیں بلکہ زبردستی مسلط کردہ غیر ملکی موجودگی کے طور پر دیکھیں گے، جو ابتدا ہی سے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں ۔ اس لئے یہ فورس لازماً امریکی قیادت میں کام کرے گی، جس سے اس کی غیر جانبداری ختم ہو جائے گی اور وہ واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات کی تابع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فورس کو حماس کو غیر مسلح کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ عملی طور پر ناممکن ہدف ہے، کسی مزاحمتی تحریک کو زبردستی غیر مسلح کرنے کی کوشش امن نہیں لائے گی بلکہ نئے تصادم کو جنم دے گی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کسی غیر ملکی فوجی موجودگی سے نہیں بلکہ فلسطینی قیادت، حکمرانی، تعمیرِ نو، اور قومی مفاہمت سے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو نہ انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے، نہ امت کے اتحاد کے بلکہ قبضے کو “استحکام” کے نام پر قانونی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے، پاکستان کو فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، قابض کے ساتھ نہیں۔


































