
لاہور: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپریشن ختم ہو چکا، موقع پر موجود تمام 33 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے، کارروائی کے دوران یرغمال مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گرد دوران آپریشن افغانستان میں رابطے میں تھے، دہشت گرد مسافروں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بازیابی کے آپریشن میں پاک فوج، ایئر فورس، ایف سی اور ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا، دہشت گردوں نے تین ٹولیوں میں مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا، مرحلہ وار یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ موقع پر موجود تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے، دہشت گردوں کی کل تعداد 33 تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ فائنل آپریشن سے پہلے حیوانی دہشت گرد 21 معصوم جانیں لے چکے تھے جبکہ 4 ایف سی کے جوان شہید ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقہ دشوار گزار ہے اور آبادی سے دور ہے، بیرونی آقاؤں کی ایما اور سہولت کاری کے ذریعے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردوں نے یرغمالیوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا، دہشت گردوں کا دین اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جو لوگ ایسا کرتے ہیں کلیئر کر دوں "دے ول بھی ہنٹڈ ڈاؤن” جعفر ایکسپریس کے واقعے کے بعد "چینجز دی رول آف دی گیم” ان دہشت گردوں کا دین اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ایف سی کے ٹوٹل چار جوان شہید ہوئے، ایف سی کے 3 جوانوں کو چوکی کے قریب شہید کیا گیا، ایف سی کا ایک جوان کل آپریشن کے دوران شہید ہوا تھا.


































