
جنیوا : بچوں کی فلاح کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ترجمان ٹیس انگرام نے کہا ہے کہ غزہ میں دس لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت اور پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹیس انگرام نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہزاروں بچے ہر رات بھوکے سوتے ہیں اور تقریباً چھ لاکھ پچاس ہزار بچے اب بھی اسکول واپس نہیں جا سکے۔ انہوں نے جنگ بندی کو ایک اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف جنگ بندی سے بھوک اور پیاس کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ انگرام نے کہا کہ غزہ میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے جس سے صاف پانی، صحت اور دیگر ضروری سہولیات تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاری انسانی بحران نے خاندانوں اور صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے، جس سے بے شمار بچے زندگی کے خطرے سے دوچار ہیں۔


































