
اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ان کے صوبے سے کسی افغان شہری کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔ اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو رویہ حکومت اور پالیسیوں کا ہے وہ خطرناک ہے۔ درخواست ہے کہ جس بات چیت پر آمادگی کی ہے اس پر آگے بڑھیں، افغانستان میں امن کے قیام تک پاکستان میں امن نہیں ہو گا۔آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟ اس جنگ کو جیتنے کیلئے آپ کو پہلے لوگوں کے دل جیتنے پڑیں گے۔ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ دہشت گردی کا حل ہمارا لیڈر بتا چکا ہے۔ اس کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات ہی کامیاب راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں کہا افغانستان سےبات چیت کےلیے ٹی او آرز بنائیں، 2 سے 3 مہینے ٹی او آرز دیے ہوئے ہیں لیکن ہمیں جواب نہیں ملا، وفاقی حکومت نے دہشتگردی پر کوئی جواب نہیں دیا نہ سنجیدہ ہے، وفاقی حکومت نے جس بات چیت کا وعدہ کیا اس پر عمل کیا جائے، افغانستان سے صرف مذاکرات سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد کی طرف مارچ کی دھمکی دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھاکہ این ایف سی ایوارڈ پر اپریل میں میٹنگ کا وعدہ کیا گیا تھا، صدر مملکت کو کورونا ہوا ہے، دعا ہے صحتیاب ہوں اور این ایف سی میٹنگ بلائیں، این ایف سی ایوارڈ پر عمل نہ ہوا تو پولیس سمیت تمام اداروں کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے، ہمیں لاوارث نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 75 ارب روپے جو کہ معمول کے مطابق آنے تھے وہ بھی نہ دیے۔


































