
تل ابیب: اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ جنگی مجرم نیتن یاہو نے غزہ پر فوجی کارروائی کے آئندہ مراحل پر فوج کو اعتماد میں نہیں لیا ہے جس سے فوجی قیادت میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔
اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق یہ انکشاف آرمی چیف یال ضمیر نے کنیسٹ کی خفیہ انٹیلی جنس و سکیورٹی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ضممیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم کی طرف سے کوئی واضح ہدایات موصول نہیں ہوئیں اور فوج کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کس چیز کے لیے تیاری کی جائے۔ ان کے بقول اگر نیتن یاہو فوجی حکومت چاہتے ہیں تو صاف صاف اعلان کریں۔
چینل بارہ کے مطابق ضمیر نے خبردار کیا کہ غزہ کے مرکزی کیمپوں تک کارروائی بڑھانے کے سنگین مضمرات ہوں گے جنہیں فوج برداشت نہیں کرنا چاہتی ۔ ضمیر نے غزہ میں انسانی امدادی کوششوں کو بھی ناکام قرار دیا جنہیں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے سکیورٹی اجلاس میں زور دیا کہ غزہ پر کارروائی طے شدہ وقت پر شروع کی جائے، حالانکہ خدشہ ہے کہ اس سے حماس کے زیر حراست قیدیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔


































