
تہران : ایران نے امریکا سے مذاکرات کو نقصانات کی تلافی اور حملے کی وضاحت سے مشروط کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا گزشتہ حملوں کی وضاحت اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ نہ کرے۔ ترجمان نے کہاکہ ایران اب غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔ ایران پر جارحیت سے قبل والی صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اور آئندہ ہر گفتگو میں امریکہ سے بازپرس اور نقصانات کی تلافی کا مطالبہ ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔
ادھرایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جوہری توانائی ادارے کو ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی تنصیبات قومی خودمختاری کا حصہ ہیں اور پارلیمان کے منظور کردہ قانون کی روشنی میں کسی بھی بین الاقوامی ادارے کو ان تک رسائی دینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کے وفد کو صرف تکنیکی سطح پر گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ وفد کسی بھی طرح کا معائنہ یا تنصیبات کا دورہ نہیں کرے گا۔


































