
پیرس : ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حقیقی مذاکرات کا مطلب مکالمہ ہوتا ہے ڈکٹیشن نہیں۔ امریکا کو مطالبات ترک کرنا ہوں گے۔
پیرس میں فرانس 24 کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر تب ہی جب امریکہ مطالبات مسلط کرنے کے بجائے منصفانہ اور دوطرفہ مفاد پر مبنی مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سفارت کاری کو رد نہیں کرتا بلکہ جبر پر مبنی مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ میں منصفانہ اور سنجیدہ بات چیت کی نیت ہی موجود نہیں، اسی وجہ سے کوئی مؤثر مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ عراقچی نے یاد دلایا کہ ایران نے پہلے بھی سفارت کاری میں اپنا سنجیدہ کردار ثابت کیا ہے، مگر رواں سال شروع ہونے والا مذاکراتی عمل امریکی و اسرائیلی مشترکہ اور غیر قانونی جنگ کے باعث بے اثر ہوگیا۔


































