
ابوجا: نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے بانی اور مذہبی رہنما آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کو چھے برسوں بعد جب جیل سے رہائی ملی تو ہزاروں کی تعداد میں ان کے چاہنے والوں نے اکٹھا ہو کر جشن منایا اور اپنی دلی خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ نائیجیریا کے صوبے کادونا کی اعلی عدالت نے آیت اللہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو سبھی الزامات سے بری کرتے ہوئےان کی رہائی کا حکم جاری کردیا –
مختلف میڈیا رپورٹوں میں ان کی رہائی کی تصویر بھی دکھائی گئی ہیں اور وہ کادونا میں اپنے بیٹے کے گھر پہنچ گئے ہیں – آیت اللہ شیخ زکزاکی کے دفتر نے بھی کادونا کی اعلی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کی ہے – عدالت نے سرانجام اس بات کو تسلیم کرلیا کہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ پر حکومت کے ذریعے لگائے گئےسارے الزامات غلط اور بے بنیاد تھے۔ آیت اللہ شیخ زکزاکی کی رہائی کے حق میں نائیجیریا کے مختلف شہروں بالخصوص دارالحکومت ابوجا میں مسلسل مظاہرے جاری تھے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو نائیجیریا کی فوج نے تیرہ دسمبر دوہزار پندرہ کو زاریا شہر میں حسینہ بقیت اللہ پر حملہ کرنے کے بعد گرفتار کرلیا تھا – یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب لوگ اربعین حسینی کے پروگرام میں شریک تھے اور عزاداری کررہے تھے حملے میں سینکڑوں عزادار شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔


































