
پیرس : فرانس کے دارالحکومت پیرس اور قریبی علاقوں کی مساجد سے سور کے سر ملنے پر مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس چیف لارینٹ نونیز نے بتایا کہ چار سر پیرس اور پانچ اندرونی مضافاتی علاقوں میں مساجد کے سامنے سے ملے۔ ایک سر بریف کیس میں رکھا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دوسرے سر بھی موجود ہوں۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ وزیر داخلہ برونو ریٹیلیو نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز اور بالکل ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے ہم وطن مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے مذہبی فرائض پُرامن انداز میں جاری رکھیں۔
پیرس کی جامع مسجد کے ریکٹر حافظ شمس الدین نے اسلامو فوبک کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمان مخالف نفرت میں اضافے کا ایک نیا اور افسوسناک مرحلہ قرار دیا ہے۔


































