
سری نگر : مقبوضہ کشمیر کے معروف عالم دین، مفکر ملت، ممتاز مصنف اور حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم مولانا محمد عباس انصاری کے چہلم کے سلسلے میں عزا خانہ زہرا گنڈ حسی بٹ میں مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں وادی کشمیر کے اطراف سے آئے ہوئے علمائے کرام دانشوروں اور معتقدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجلس ترحیم میں مقام معظم رہبری کے نمائندہ برائے ہند حجۃ الاسلام والمسلمین جناب آقای مہدی مہدوی پور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مجلس کا آغاز صبح دس بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد علمائے کرام، دانشور حضرات اور ذاکرین نے الگ الگ انداز میں قائد اتحاد حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد عباس انصاری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے مرحوم مولانا محمد عباس انصاری کو ایک عہد ساز شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم اپنی ذاتی زندگی میں کئی نشیب و فراز سے گزرے، مشکل اور کھٹن حالات کے باوجود قوم کی ترجمانی میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ کی اور اپنی زندگی کے انمول تجربات سے تعمیر ملت میں ممتاز کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایک بیباک اور عظیم الشان قائد سے محروم ہوگئی اور اس قومی نقصان کی تلافی صدیوں تک ممکن نہیں۔ حجۃ الاسلام والمسلمین آقائی مہدی مہدوی پور نے مرحوم مولانا محمد عباس انصاری کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم جامع الکمال انسان تھے ان کی تعلیمی سیاسی سماجی اور مذہبی خدمات سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں جنہیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے وادی کے مختلف مقامات پر جو تعلیمی ادارے قائم کئے اور تعلیمی طور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی تشنگی دور کی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ انہوں نے ایران کے حالات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں حالات پرامن ہیں، دشمن کی جانب سے اگر کہی بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہے تو ایران کے غیور عوام اغیار کی ان کوششوں کو ناکام بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کامیابی کے منازل تیزی کے ساتھ طے کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اپنی ہزارہا کوششوں کے باوجود اس مستحکم و محکم قلعے کو کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انہوں نے مولانا مسرور عباس انصاری، ناصر عباس انصاری اور دیگر لواحقین کو تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہوئے مرحوم مولانا عباس انصاری کے بلند درجات کے لئے دعا کی۔

































