
تہران : مہسا امینی کی موت سر یا جسم کے دیگر اہم اعضاء پر چوٹ لگنے سے نہیں بیماری کی وجہ سے ہوئی۔ ایران کی قانونی ادویات کی تنظیم نے تحقیقات کے نتائج جاری کردئے۔ مہسا امینی 16 ستمبر کو تہران کے ایک اسپتال میں ہلاک ہوگئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دماغ اور پھیپھڑوں کے سی ٹی اسکین کے مطالعے جسمانی معائنے اور پوسٹ مارٹم کے نتائج اور پیتھولوجیکل ٹیسٹوں کے مطابق مہسا کے سر یا جسم کے اعضا پر چوٹ کے نشانات نہیں پائے گئے۔ امینی کی آٹھ سال کی عمر میں کرینیو فیرنجیوما کی سرجری ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہائپوتھیلمس اور ہائپوفیسس غدود میں خرابی پیدا ہوئی تھی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی ہائیڈروکارٹیسون، لیوتھائیروکسین اور ڈیسموپریسن بطور دوا لیتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق امینی 13 ستمبر کو بے ہوش ہوگئیں، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن میں خلل پڑا اور بلڈ پریشر کم ہوگیا کیونکہ اس کا جسم اس کی بیماری کو دیکھتے ہوئے نئی حالتوں کے مطابق نہیں ہو پا رہا تھا۔


































