
غزہ : حماس نے قازقستان کے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت کو مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کو سفید کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قازقستان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب صیہونی ریاست اور اس کے جنگی مجرم رہنماعالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل سے کسی بھی قسم کا معمول کا تعلق اس کے جرائم میں شراکت داری اور عالمی رائے عامہ میں اس کی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے مترادف ہے۔ حماس نے تمام ممالک، بالخصوص عرب و اسلامی ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ صیہونی ریاست کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کریں اور کسی بھی نوعیت کے نارملائزیشن منصوبوں میں شامل ہونے سے گریز کریں۔ تنظیم نے زور دیا کہ تمام کوششیں فلسطینی عوام کی استقامت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی آزادی و خودمختار ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت القدس ہو کی جدوجہد کے لیے وقف کی جائیں۔
حماس نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے نہ قبضے کی حقیقت بدلے گی اور نہ ہی اس کے رہنماؤں کی عالمی تنہائی ختم ہوگی، اس لیے عوامی اور سرکاری سطح پر نارملائزیشن کی مزاحمت مزید مضبوط کی جائے۔


































