
غزہ: اسرائیلی جارحیت سے صحافی بھی محفوظ نہ رہے۔ حقائق چھپانے کیلئے صیہونی فوج نے جان بوجھ کر میڈیا مراکز کو نشانہ بنایا۔ غزہ پر حملے میں بارہ صحافی جانبحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ حملوں کا واضح مقصد غزہ کی المناک صورتحال کو دنیا سے چھپانا تھا۔ اسرائیلی حملے میں اب تک 12 صحافی جانبحق اور 8 زخمی ہوچکے ہیں۔
لبنان پر حملے کے دوران گاڑی پر میڈیا لکھا ہونے کے باوجود بھی حملہ کیا گیا۔ جس سے ایک صحافی جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ تل ابیب میں بی بی سی کی ٹیم کو اسرائیلی پولیس نے بندوق کی نوک پر ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ بی بی سی کے مطابق گاڑی میں جانیوالے تین صحافیوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور تلاشی لی۔ موبائل فون چھین کر زمین پر پھینک دیا۔
اسرائیلی وزیر نے الجزیرہ نیٹ ورک کے بیورو کو بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وزیر مواصلات نے قطری نیوز اسٹیشن پر حماس کو اکسانے اور غزہ سے ممکنہ حملے کے لئے اسرائیلی فوجیوں کی شناخت ظاہر کرنے کا الزام لگایا۔


































