
GAZA CITY, GAZA NOVEMBER 23: Palestinians who returned to the Al-Zerka area of the Al-Tuffah neighborhood after the ceasefire continue to live amid destroyed buildings and makeshift shelters on November 23, 2025. Lacking basic necessities such as adequate shelter, food, and clean water, families struggle to survive under extremely difficult conditions in the blockaded Gaza Strip. (Photo by Khames Alrefi/Anadolu via Getty Images)
تل ابیب: اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حالات کو بین الاقوامی فورس کی تعیناتی سے پہلے اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت اہرنوٹ کے مطابق تل ابیب چاہتا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس کی آمد سے قبل وہ غزہ میں ایسا ماحول بنا لے کہ بعد میں کارروائیوں پر اسے کم سے کم پابندیاں برداشت کرنا پڑے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لبنان کی طرح کا ماڈل غزہ میں نافذ کرنا اسرائیل کی خواہش ہے، مگر یہاں حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
اخبار نے مشکلات کی وجہ امریکی دباؤ کو قرار دیا، کیونکہ واشنگٹن جنگ بندی کے فریم ورک کے دوسرے مرحلے میں جانا چاہتا ہے۔ یدیعوت اہرنوٹ کے مطابق اسرائیل کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ حماس کو دوبارہ اپنی عسکری صلاحیت بحال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں حالات میں نرمی، رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور اندرونِ غزہ و باہر آزادانہ آمد و رفت کو شامل کیا گیا ہے۔


































