
غزہ : حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملہ ایک حسابی مہم جوئی ہے۔ ہمارے آپریشن میں حیرت کا عنصر تھا اس کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ ہر کوئی اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ ہم مزاحمت کریں یا نہ کریں اسرائیل ہمیں مار رہا ہے۔ اسرائیل میں ہماری کارروائی ایک طویل دفاعی جنگ کے حصے کے طور پر کی جانے والی ایک کارروائی ہے۔ خالد مشعل نے عربوں سے غزہ کی حفاظت کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ غزہ میں مزاحمت پر تنقید کرنے والی کوئی آواز نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک متحد عرب اسلامی موقف ہو جو مغرب پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے عربوں کا موقف اچھا ہے اور ہم اسے مزید بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم لوگوں کو جنگوں کی طرف نہیں بلاتے۔
انہوں نے کہا حزب اللہ اور ایران نے ہمیں ہتھیار اور مدد فراہم کی اور ہم مزید کے لیے بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حماس کو ختم کر دے گا، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ مشکل ضرور ہے لیکن وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتے جیسے طالبان نے امریکا کو شکست دی ایسے ہی ہم انہیں شکست دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے لیکن دوسری طرف اسرائیل مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے اثرات کا غیر ملکی قیدیوں تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اپنے تمام قیدیوں کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔


































