
غزہ : غزہ کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسماعیل الثوابتہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ان فلسطینی قیدیوں کی لاشوں سے اعضا چُرا لیے جو حال ہی میں غزہ واپس کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر الثوابتہ کے مطابق خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس لائی گئی درجنوں لاشوں پر واضح طور پر مسخ کرنے کے آثار پائے گئے۔ لاشوں کی آنکھیں، بیرونی اور اندرونی اعضاء غائب تھے۔ لاشوں کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ کئی لاشیں آدھی تھیں، بعض کے سر، ہاتھ یا ٹانگیں نہیں تھیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے اسپتالوں کے ڈائریکٹر محمد زقوت نے بھی تصدیق کی کہ ان لاشوں پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ ان کے بقول ایک لاش کی گردن پر رسی لپٹی ہوئی تھی، آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
ان انکشافات نے اسرائیلی حراست میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


































