
جنیوا: اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہےکہ اسرائیل غزہ سٹی پر حملے کرکے اسے ناقابلِ رہائش بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
فرانسسکا البانیز نے مختلف رپورٹس اور زمینی شواہد کی بنیاد پر بتایا کہ وہ ایسے ہتھیار اور طریقہ کار دیکھ رہی ہیں جن کا نتیجہ نہ صرف عمارتوں کی تباہی بلکہ شہری علاقوں کو طویل مدت تک ناقابل رہائش بنانے کے مرحلے تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں میں استعمال ہونے والی تکنیکس اور ہتھیار عام بمباری یا روایتی فائرنگ سے مختلف ہیں جس سے بنیادی انفراسٹرکچر، پانی کی فراہمی اور نکاسی اور رہائشی علاقے مسلسل تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان شواہد کی آزادانہ تحقیقات کرائے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طبی و انسانی امداد یقینی بنائے۔
البانیز نے خبردار کیا کہ اگر ان اقدامات کی روک تھام نہ کی گئی تو غزہ سٹی طویل المدتی طور پر غیر رہائشی بن سکتا ہے، جس کے نتائج خطے میں سلامتی کو بھی متاثر کریں گے۔ انہوں نے غزہ میں نسل کُشی اور اس پر دنیا کی خاموشی وشراکت کو وقت کی سب سے بڑی شرمندگی قرار دیا ہے۔


































