
غزہ : غزہ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں آبادی کی ضرورت کے محض ایک تہائی سے بھی کم امداد کی اجازت دے رہا ہے۔ غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے ترک نیوز ایجنسی انادولو کو بتایا کہ اسرائیل روزانہ صرف دو سو امدادی ٹرک غزہ میں لے جانے دے رہا ہے۔ حالانکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت چھ سو ٹرکوں پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر غزہ میں بھوک کو “آہستہ اور بتدریج” بڑھا رہا ہے اور آبادی میں غذائی قلت کی شرح نوے فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ الثوابتہ کے مطابق اسرائیل اب بھی بھاری مشینری کے داخلے پر پابندی لگائے ہوئے ہے، جس کی عدم دستیابی سے شہری دفاع کی ٹیمیں ملبے تلے شہدا کی لاشیں نہیں نکال پا رہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو “دوہرا جرم” قرار دیتے ہوئے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر دباؤ ڈال کر اسرائیل کو اپنے دستخط شدہ معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور کریں۔


































