
غزہ : اقوامِ متحدہ کے ادارے اوچا کی ترجمان اولگا چیریفکو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ شہر پر سزائے موت نافذ کر دی ہے اور وہاں کے شہریوں کے پاس اب صرف دو راستے ہیں شہر چھوڑ دیں یا موت قبول کریں۔غزہ کے علاقے دیر البلح سے وڈیو کانفرنس میں اولگا چیریفکو نے کہا کہ لاکھوں تھکے ماندے اور خوف زدہ فلسطینیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک اور گنجان علاقے کی طرف نکل جائیں۔انہوں نے کہا کہ خاندانوں نے وقار اور امید کھو دی ہے کیونکہ زندگی کو برقرار رکھنے والے نظام منظم طریقے سے ختم اور تباہ کردئےگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غزہ کے لوگ خیرات نہیں مانگ رہے ہیں۔ وہ تحفظ، وقار اور امن کے ساتھ رہنے کا اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ ہمارا فیصلہ ہماری تقریروں سے نہیں، بلکہ ہمارے اعمال سے کرے گی۔ جب غزہ جل گیا، بچے بھوکے مرے۔ اسپتال تباہ ہوئے تو ہم نے کیا کیا؟۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ دیر ہونے سے پہلے پائیدار امن کی راہ ہموار ہو، بمباری رکنی چاہیے اور خون ریزی بند ہونی چاہیے۔


































